باپ کا مال
معنی
١ - موروثی چیز، اپنے باپ کی میراث، وہ مال جس کی ملکیت کا قانونی حق حاصل ہو۔ "اردو ہر زبان کی پونجی کو اس طرح سے لے لیتی ہے جیسے اس کے باپ ہی کا مال ہے۔" ( ١٩٢٨ء، باتوں کی باتیں، میر باقر علی، ٤٥ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم باپ اور عربی سے ماخوذ اسم مال کے درمیان کلمہ اضافت 'کا' لانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٨٠ء میں سودا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - موروثی چیز، اپنے باپ کی میراث، وہ مال جس کی ملکیت کا قانونی حق حاصل ہو۔ "اردو ہر زبان کی پونجی کو اس طرح سے لے لیتی ہے جیسے اس کے باپ ہی کا مال ہے۔" ( ١٩٢٨ء، باتوں کی باتیں، میر باقر علی، ٤٥ )